Arfana Mallah and Blasphemy
پروفیسر عرفانہ ملاح۔ فوٹو: فیس بک

گذشتہ کچھ روز سے سوشل میڈیا پہ عرفانہ ملاح کا چرچا ہے اور ہزاروں صارفین سندھ یونیورسٹی کی پروفیسر عرفانہ ملاح کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح سندھ یونیورسٹی، جامشورو میں کیمسٹری کی پروفیسر ہے،اور سندھ کے لبرلز میں جانی جاتی ہے۔ گزشتہ مہینوں میں عرفانہ ملاح “عورت آزادی مارچ” منعقد کرانے کی وجہ سے کافی تنقید کے نشانے پہ رہیں۔

عرفانہ ملاح پہ الزامات

بروز جعمرات، 11 جون 2020 کو پروفیسر عرفانہ ملاح نے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے ایک پروفیسر ساجد سومرو (جسے توہین رسالت کے چارجز پہ بروز بدھ گرفتار کیا گیا تھا) کی گرفتاری کے خلاف تنقید کرتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کو نعوذباللہ “کالا قانون” کہا تھا۔

Arfana Mallah's blasphemous Facebook post
image: Screenshot from Arfana Mallah’s Facebook profile

فیسبک پوسٹ پہ شدید ردعمل آنے کے بعد عرفانہ ملاح نے اپنا سندھی زبان میں کیا گیا پوسٹ ڈیلیٹ کر دیا، تاہم لوگوں نے اس کے سکرین شارٹس لے لیے۔

عرفانہ ملاح کو سلمان تاثیر سے تشبیہ دے کر عوام میں غم و غصے کی لہر ابل پڑی۔ جے یو آئی ف سندھ نے عرفانہ ملاح کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے یہ کہہ کر کیس دائر کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ سائبر کرائم کا کیس ہے، لہذا ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں رپورٹ کی جائے۔

پروفیسر عرفانہ ملاح کے معاملے پہ جے یو آئی ف سندھ کا موقف

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جے یو آئی ف سندھ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں پروفیسر کے خلاف رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ تاہم جے یو ائی ف سندھ کے سیکرٹری اطلاعات سمی سواتی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ انکی جماعت عرفانہ ملاح کے خلاف توہین رسالت کا کیس کر رہی ہے۔ تاہم عرفانہ ملاح نے آئین توہین رسالت کو کالا قانون کہا ہے جو کہ آئین پاکستان کی توہین ہے اور ہم کسی کو توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ساجد سومرو کی گرفتاری

مورخہ 10 جون بروز بدھ کو شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے ایک پروفیسر ساجد سومرو کو توہین رسالت کے چارجز پہ خیرپور سے گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری کے مناظر ذیل میں دی گئی ویڈیو میں دیکھیں۔

video: Arrest of Sajid Somro

عینی شاہدین کے مطابق چار گاڑیوں میں درجن سے زیادہ پولیس آفیسرز نے ساجد سومرو کے گھر کا گھیراؤ کر کے اس کو اس کے گھر سے گرفتار کیا۔ جس نے گرفتاری سے پہلے اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے اپنے دوستوں کو پولیس کے چھاپے کی اطلاع دے دی تھی اور مدد کیلئے بلا لیا تھا۔

Video: Professor Sajid Somro of Shah Abdul Latif university, Khairpur, informs about the police raid.

اطلاعات کے مطابق ساجد سومرو نے گزشتہ ہفتے مشہور سندھی رائٹر عطا محمد بھنبھرو کی تدفین میں بھی شمولیت کی تھی جس نے مرنے سے پہلے اپنی انوکھی وصیت میں کہا تھا کہ اسے اوندھے منہ دفنایا جائے اور اس کی قبر کو زنجیروں سے جکڑا جائے۔

Leave a Reply