Nail-studded rods recovered from Galwan valley, Ladakh
The nail-studded rods — captured by Indian soldiers from the Galwan Valley encounter site — with which Chinese soldiers attacked an Indian Army patrol and killed 20 Indian soldiers.

منظر عام پر آنے والی ایک تصویر میں ایسے دیسی ساختہ ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں جنھیں چین اور انڈیا کی متنازع سرحدی علاقے وادی گلوان میں 15 اور 16 جون کی شپ کو ہونے والی جھڑپ میں مبینہ طور پر چینی فوجیوں نے انڈین فوجیوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان وادی گلوان میں جھڑپ کے نتیجے میں کم سے کم 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکتوں کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

چین نے اس جھڑپ میں اپنے کسی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کو حملے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحد غیر واضح ہے اور جغرافیائی حالات میں تبدیلی سے اس میں رد وبدل ہوتا رہتا ہے۔

جمعرات کو منظر عام پر آنے والی تصویر میں ایسے دیسی ساختہ ہتھیار نظر آ رہے ہیں جنھیں بظاہر لوہے کی سلاخوں پر کیلیں لگا کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ تصویر انڈیا اور چین کی سرحد پر تعینات ایک اعلیٰ فوجی اہکار نے بی بی سی کو فراہم کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار چینی فوجیوں نے استعمال کیے تھے۔

دفاعی تجزیہ نگار اجے شُکلہ نے، جنھوں نے سب سے پہلے یہ تصویر ٹویٹ کی تھی، ان ہتھیاروں کے استعمال کو ’بربریت‘ قرار دیا تھا۔

آتشی اسلحے کی عدم موجودگی کا سبب 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا وہ سمجھوتہ ہے جس میں متنازع سرحد پر کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی غرض سے بندوقوں اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اس تصویر کو وسیع پیمانے پر ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا اور کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ البتہ چینی یا انڈین حکام نے اس پر کسی طرح کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔

میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپ تقریباً 14 ہزار فٹ بلند پہاڑوں کی افقی ڈھلوانوں پر ہوئی جس کی وجہ سے بعض فوجی نیچے تیز بہاؤ والے دریائے گلوان میں گر گئے جس کا درجۂ حرارت صفر سے بھی کم تھا۔

بندوقیں کہاں تھیں؟

لداخ کی گلوان وادی میں آب و ہوا انتہائی سخت ہے اور بہت زیادہ بلندی پر واقع یہ خطہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا ایل اے سی کے مغربی سیکٹر کے ساتھ ہوتا ہوا اکسائے چِن کے قریب تک جاتا ہے۔ اس متنازع علاقے پر انڈیا کا دعوٰی ہے مگر کنٹرول چین کا ہے۔

دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بغیر روایتی ہتھیاروں کے یہ پہلی جھڑپ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 21 سو میل لمبی غیر واضح سرحد یا ایل اے سی پر انڈیا اور چین کے درمیان دو بدو لڑائی کی ایک تاریخ ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان آخری بار فائرنگ کا تبادلہ 1975 میں شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے ایک دور افتادہ درّے میں ہوا تھا جس میں چار انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کو مختلف سابق سفارتکاروں نے گھات لگا کر حملہ اور حادثہ قرار دیا تھا۔

اس کے بعد سے آج تک فریقین کے درمیان کبھی گولی نہیں چلی۔

اس کی وجہ 1996 کا وہ دو طرفہ معاہدہ ہے جس کے تحت ’کوئی بھی فریق ایل اے سی کے دونوں جانب دو کلو میٹر کی حدود میں گولی نہیں چلائے گا نہ ہی کوئی دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کارروائی کرے گا۔‘

مگر حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی کے دیگر واقعات پیش آئے ہیں۔ مئی میں پینگانگ جھیل، لداخ اور شمال مشرقی انڈین ریاست سِکِم کے ساتھ سرحدوں پر انڈین اور چینی فوجیوں کے مابین ہاتھاپائی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

انڈیا نے چین پر لداخ کی وادی گلوان میں ہزاروں فوجی بھیجنے اور 14,700 مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں مگر کوئی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔

1 COMMENT

Leave a Reply