Matric student Maha Amir appeals for help

آنکھوں میں آنسو، چہرے پہ بے بسی اور آواز میں لرزش، یہ حالت کراچی سے رکھنے والی ایک میٹرک کی کم عمر طالبہ ماہا عامر کی ہے جسے اور اس کی بہن کو معاشرتی درندے گزشتہ دو سال سے جنسی حراسگی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہمارے پٹھان بھائ بہن کی مدد کرئںکراچی کی بیٹی کی مدد و تحفظ و انصاف کے لۓ فریاد۔

Posted by Irum Azeem Farooque on Monday, June 22, 2020
Video: Maha Amir asks for help

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ دنوں سے ایک ویڈیو وائرل ہو رہی تھی جس میں میٹرک کی ایک طالبہ نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے اپنے اور اپنی بہن کے ساتھ ہوا جنسی ہراسگی کا حیرت انگیز واقعہ بیان کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ میرا نام ماہا عامر اور میں میکاسا اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں میٹرک کی طالبہ ہوں، مجھے اور میری چھوٹی بہن کو گزشتہ ایک سال سے دو پٹھان لڑکوں کی جانب سے مسلسل ہر اسگی کی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گھریلو حالات ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ہم دونوں ایک سال سے ان کو نظر انداز کر رہی تھیں، لیکن اب دل برداشتہ ہو کر یہ ویڈیو بنائی ہے۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ایک دن نوکری کی تلاش میں میں میری بہن اور ہمارے ساتھ ہمارا کزن گئے ہوئے تھے کہ واپسی پر ان لڑکوں نے ہمیں راستے میں روکا اور میری بہن کو تھپڑ مارا جس پر میری بہن روتی ہوئی گھر کی طرف بھاگی، ہم نے دونوں لڑکوں کے خلاف ایف آئی آر لکھوانے کے لیے متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا تو انہوں نے بہت مشکل سے ہماری ایف آئی آر کاٹی کیوں کہ پولیس والے بھی ان ملزمان سے ملے ہوئے تھے۔

ماہا عامر کی ویڈیو ایک نجی چینل کی صحافی ارم عظیم فاروق اور بہت سارے سوشل میڈیا پیجز نے شیئر کی اور حکومت کو اس بچی کی مدد کیلئے زور دیا۔

 لڑکی کا ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس اسٹیشن سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پی آئی بی تھانے کی پولیس نے اوپر سے ڈنڈا بجائے جانے کے بعد ایکشن لیتے ہوئے ہراساں کرنے والے ملزمان کے خلاف لڑکی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

Men arrested over harassment allegations by Maha Amir
ملزمان یونس بونیری اور انورزادہ پولیس کی حراست میں۔

جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والی ماہا عامر کا پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہنا تھا کہ ملزمان یونس بونیری اور انور زادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے، جس پر پولیس نے مقدمے میں ہراساں کرنے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی ہیں۔

ماہا عامر کی مدعیت میں درج مقدمے کے متن میں ماہا عامر کا بتانا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے دونوں پٹھان لڑکے ہمیں آتے جاتے ہوئے ہراساں کرتے تھے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے، مجھے اور میری چھوٹی بہن کو دونوں نے بہت پریشان کر رکھا تھا گھریلو حالات کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے ہم نظر انداز کر رہی تھیں۔

کراچی:میٹرک کی طالبہ مہاعامرکی سوشل میڈیاپرمددکی اپیل کی ویڈہووائرل ہونے کامعاملہمدعی لڑکی کی شکائیت پردوملزمان…

Posted by Irum Azeem Farooque on Tuesday, June 23, 2020
Response of Karachi police over Maha Amir viral video

ماہا نے بتایا کہ ان میں سے ایک ملزم کی جانب سے ایک دن میری چھوٹی بہن کو سیڑھیوں پر روک کر تھپڑ مارا گیا اور ساتھ ہی ساتھ میرے کزن کو بھی ملزمان کی جانب سے تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ دھکے بھی دیے گئے۔

میری چھوٹی بہن اپنی عزت کو بچانے کی خاطر وہاں سے روتی ہوئی بھاگتی گھر آ گئی۔ یہی نہیں دونوں ملزمان کی جانب سے میرے والد کے روکنے پر انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

1 COMMENT

Leave a Reply