LGS Scandal teachers pictures
image via social media

لاہور کiے مشہور نجی اسکول ایل جی ایس (لاہور گرامر اسکول) میں استاد نما بھیڑیوں کا انتہائی شرمناک دل ہلا دینے والا واقعہ، طالبات نے تنگ آکر منہ کھول دیا اور ساری اصلیت سوشل میڈیا پر لکھ کر بتا دی۔

video: LGS (Lahore Grammar School) scandal exposed

تفصیلات کے مطابق، یہ دل ہلا دینے والا واقعہ لاہور کے مشہور نجی اسکول ایل جی ایس (لاہور گرامر اسکول) میں طالبات کے ساتھ کئی سالوں سے چل رہا ہے۔ اس پورے قصے تین استاد نما بھیڑئیے شامل ہیں جنہوں نے بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا شروع کیا۔

VIDEO: LGS principal Audio keaked

ایک شخص جس کا نام اعتزاز شیخ ہے یہ شخص بچیوں کو اپنی برہنہ تصاویر انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ وغیرہ پر بھیجا کرتا تھا، اور ان بچیوں سے بھی انکی برہنہ تصاویر مانگا کرتا تھا۔دوسرے شخص کا نام زاہد اقبال وڑائچ ہے یہ بھی بچیوں کو غلط طریقے سے چھیڑا کرتا اور ان سے بات کرتا تھا۔آخری تیسرا شخص بشیر خٹک یہ بھی ایل جی ایس کا استاد ہے ہے جسکے شرمناک حرکتوں پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

ابتدائی طور پر تو آپ اس سکینڈل سے آگاہ ہو چکے ہوں گے کہ یہ سارا مسئلہ کیا ہے، ایل جی ایس ایک بہت بڑا نامی گرامی اسکول، اس سکول کی بہت بڑی چین جو پورے پاکستان پھیلی ہوئی ہے۔ لاہور کی ایل جی ایس کی ایک شاخ میں باقاعدہ طور پر انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے معصوم چھوٹی بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا تھا اور یہ سلسلہ نا جانے کتنے سالوں سے جاری تھا۔ بلآخر بچیوں نے تنگ آکر سب کچھ بتا دیا ۔

مزید تفصیلات کے مطابق ایک استاد اعتزاز شیخ جو کہ ایک جوان اور پڑھا لکھا لڑکا ہے۔ اسکو اسکول کی انتظامیہ اسکول کے دوروں پر بھیجا کرتی تھی، کیونکہ یہاں پر سارے امیر لوگوں کی بچیاں پڑھتیں تھیں تو اسکول کے ٹرپس بیرونِ ملک جایا کرتے تھے۔یہ شخص ساتھ جاتا اور وہاں جاتے ہی اسکا روپ بالکل بدل جاتا تھا۔وہاں پہنچتے ہی یہ شخص سب سے پہلے شراب نوشی کرتا اور پھر جو بچیاں اس کے ساتھ گئی ہوتیں ان بچیوں کو بھی مجبور کرتا کہ وہ بھی اسکے ساتھ مل کر شراب پیئیں۔

تیرہ، چودہ، پندرہ سال کی بچیاں جن کے ذہن ابھی بہت کچے تھے ان کو یہ شخص اکسا کے شراب پلانے کی کوشش کرتا۔ اس نے ایک بچی کو باقاعدہ قائل کر لیا شراب پینے پہ اور اسکو کو شراب کا عادی بنا دیا۔ اس بچی کی ایسی شراب کی عادت بن گئی کہ اس بچی کو شراب پینے کے لئے اس شخص کے پاس سونا پڑتا اور جنسی تعلق بھی استوار کرنا پڑا۔

مزید یہ شخص بچیوں کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجا کرتا اور انڈے بھی ڈیمانڈ کرتا کہ وہ بھی اپنی برہنہ تصاویر بھیجیں۔ بچیوں کے ذہن ابھی کچے تھے اس شخص نے انکو ورغلا لیا اور بچیوں نے اس درندے نما استاد کی باتوں میں آکر تصاویر نبا کر بھیجی بھی تھیں ، پھر یہ شخص ان کو بلیک میل کرتا کہ وہ اس سے جنسی تعلق استوار کریں نئی تو ان کی تصاویر لیک کر دے گا۔ یہ اس شخص کا طریقہ واردات جو بچیوں نے خود سوشل میڈیا پر لکھا۔

دوسرا درندہ نما استاد زاہد اقبال وڑائچ یہ بھی تقریباً یہی کام کرتا تھا۔ آخری تیسرا شخص بشیر خٹک، اس شخص کی بہت داستانیں ہیں، اس شخص نے بہت گندی اور غلیظ حرکتیں کی ہوئی ہیں۔ یہ شخص بچیوں کو مجبور کرتا کی وہ اپنے واٹس ایپ گروپس میں اس کو بھی ایڈ کریں، جو بچیاں اسکو ایڈ کر لیتیں تو پھر یہ شخص ان گروپس میں بہت غلط قسم کی باتیں کرتا اور جو بچیاں اسکو گروپ میں شامل نہ کرتیں ان بچیوں کو یہ شخص ہراساں کرتا کہ میں تم لوگوں کے مارکس/گریڈ کم کر دوں گا اور یہ ایسا کرتا بھی تھا۔

مزید یہ بچیوں کے فری پیریڈز میں انکی کلاس میں جا کر ان سے نامناسب اور غلط باتیں(بچیوں کے جنسی اعضا) کرتا۔مزید بچیوں نے لکھا کہ یہ شخص پہلے کینیڈا میں رہتا تھا اور وہاں پر اسکا جو وقت جسم فروش عورتوں کے ساتھ گزرا یہ وہ قصے آکر کلاس میں سناتا تھا، پھر بچیوں کو چرس پینے پر بھی مجبور کرتا، بچیوں کو کام چیک کرنے کے بہانے قریب بلاتا اور غلط طرح سے بچیوں کو ہاتھ لگاتا۔

اس شخص بشیر خٹک کی ان حرکتوں کا پورے سٹاف کو پتا تھا۔ مگر پورا سٹاف خاموش رہا جبکہ سٹاف میں خواتین اور بوڑھے بھی شامل تھے۔ یہ شخص اسکول میں ایک شرٹ پہن کے آتا جس پر لکھا ہوتا( I am un-derresing you)میں تمھارے کپڑے اتار رہا ہوں،ایک بچی نے پوچھا کہ سر آپکی شرٹ پہ یہ کیا لکھا ہے تو اس شخص نے جواب میں کہا کہ تمہاری شرٹ اتار کر تمھیں بتاؤں۔

یہ شخص دو سال پہلے لاہور کی ایک اکیڈمی میں تیرہ سالہ بچی کو ہراساں کرنے کی وجہ سے نکالا جا چکا تھا۔ ایل جی ایس نے بغیر ریکارڈ دیکھے اس شخص کو دوبارہ نوکری پر رکھ لیا۔ یہ شخص اپنے آپ کو اپنی کلاس اور پورے اسکول کا شاہ رخ خان سمجھتا، اور کہتا کہ میری ہیروئین بن جاؤ۔

ایک بچی نے جب اس شخص کے خلاف گھر میں شکایت کی تو جب اسکی والدہ نے اسکول آکر پرنسپل سے بات کی شور مچایا اس دوران یہ شخص تب بالکل خاموش کھڑا رہا، جاتے وقت بشیر خٹک نے اس بچی کی والدہ کا نمبر لیا کہ میں نے آپ سے کوئی بات کرنی ہے ، اگلے دن جب اس شخص نے کال کی تو اس بچی کی والدہ کو دھمکی دی کہ آپ جانتی نہیں ہیں کہ میں کون ہوں۔

Actor umair Rana's pictures, LGS Scandal
Image via social media

مزید تفصیلات کے مطابق ایک صاحب عمیر رانا جو کہ ایکڑ ہیں انکی اہلیہ ماہرہ عمیر رانا اسی اسکول کی انتظامیہ کا حصہ ہیں بچیاں کب ان کے پاس گئیں شکایت لگائی تو انہوں نے جواب میں انتہائی افسوس ناک بات کہی کہ تم بچیاں کپڑے اس طرح کے پہنتی ہو تمہیں مرد تو چھیڑیں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سفید رنگ کا یونیفارم کب سے غلط طرح کے کپڑوں میں شمار ہونے لگا؟

آخر میں ہماری والدین سے گزارش ہے کہ اپنی آنکھیں کھول کر بیٹھیں کہ اسکولوں میں ہو کیا رہا ہے ماحول کیسا ہے، اپنے بچوں کے رویئے میں تبدیلی ہو تو غور کریں کہ انکے ساتھ کیا مسئلہ پیش آ رہا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ ایل جی ایس جیسے اسکولوں کا بائیکاٹ کر دیں۔ایل جی ایس جیسے اسکولوں کی انتظامیہ، پرنسپل اور استاد سب ملے ہوتے ہیں اور اسکول کے نام پر عیاشی کا اڈہ بنایا ہوتا ہے۔

Leave a Reply