Girl kidnapped in Kabirwala in front of Tehsil headquarters

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے سامنے دن دیہاڑے اسلحہ کے زور پر صبا نامی لڑکی کے اغواء۔ لوگ پاس کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔

بعدازاں، کبیروالا ٹی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے سے اغواء ہونے والی خاتون کو قاسم بیلا ملتان سے بازیاب کروا لیا گیا۔

کبیروالا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے سامنے دن دیہاڑے اسلحہ کے زور پر صبا نامی لڑکی کے اغواء کرنے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ احسان الحق نامی شخص نے صبا سے پسند کی شادی کی جس کے کچھ عرصہ بعد صبا اپنے گھر واپس آئی تو صبا کے گھر والوں نے بنا طلاق دلوائے ملتان کے رہائشی محمد علی نامی شخص سے صبا کا نکاح کر کے رخصت کر دیا۔

لڑکی موقع پاتے ہی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور محمد علی کے خلاف جنسی زیادتی پر مقدمہ درج کرانے کے لئے تھانہ صدر پولیس کے کانسٹیبل کے ہمراہ ہسپتال اپنا میڈیکل کروانے آئی۔ جس کی محمد علی کو اطلاع ملی۔

محمد علی اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسلح ہوکر ہسپتال پہنچ گیا اور اسلحہ کے زور پر پولیس کانسٹیبل جو مسلح نہیں تھا کی موجودگی میں لڑکی کو اغوا کرکے لے گیا لڑکی کا پہلا شوہر احسان الحق چیخ و پکار کرتا رہا محمد علی کے ساتھ آنے والے اُس کے بھائی، بھابھی اور ماں کو عوام نے گھیر لیا جو تھانہ سٹی پولیس کی حراست میں ہیں۔

لڑکی کی ماں سے جب سوال کیا گیا کہ شادی شدہ خاتون کا نکاح شرعی اور قانونی طور پر ہرگز جائز نہیں تو آپ نے کیسے نکاح کردیا تو لڑکی کی ماں کا کہنا تھا کہ لڑکی کو طلاق دلوا دی تھی جبکہ طلاق نامہ طلب کرنے پر لڑکی کی ماں طلاق نامہ نہ دے سکی۔

لیکن لڑکی کا محمد علی کے خلاف زیادتی کا میڈیکل کروانے جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ لڑکی کو احسان الحق سے طلاق نہ ہوئی ہے اور لڑکی کا زبردستی دوسرا نکاح کردیا گیا ہے۔

Leave a Reply