چینی فوجیوں کا انتہائی جارحانہ رویہ، بھارتی فوجی جان بچانے کیلئے دریائے گلوان میں چھلانگ لگانے پر مجبور ہو گئے، بھارتی میڈیا کا دعوی۔

بھارت کی صرف گیدڑ بھپکیاں ہی نہیں بلکہ بھارتی فوجی بھی کسی گیدڑ سے کم نہیں۔ یعنی یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بھارتی فوجی صرف گھر کے شیر ہیں، اور یہ شیر بھی فلموں کی حد تک حقیقت میں تو چینی شیر بھارتی فوجیوں کو ان کے علاقے میں گھس کر مارہے ہیں۔

 پیر اور منگل کی درمیانی شب لوہے کی سلاخوں اور خاردار تار سے لپٹی لاٹھیوں سے لیس چینی فوجیوں کا رویہ اس قدر جارحانہ تھا کہ بعض بھارتی فوجی شدید ڈر گئے اور اپنی جان بچانے کیلئے دریائے گلوان میں چھلانگ لگا کر اپنی جانیں دیں۔

لداخ میں کنٹرول تو بھارت کا لیکن بھارتیوں کے ساتھ چینی فوجیوں نے آؤٹ آف کنٹرول رویہ اپنا کر لداخ میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپ میں بھرپور جواب دیا۔ اور بھارتی فوج کی سولہ بہار رجمنٹ کے اہلکاروں پر حملہ آور ہونے کے لیے جدید ہتھیاروں کی بجائے لوہے کی سلاخوں اور خاردار تار سے لپٹی لاٹھیوں کا استعمال کیا۔ چینی فوجیوں کی جرات اور بہادری کے چرچے بھارتی میڈیا پر بھی عام ہیں لیکن عزت بچانے کیلئے ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جارہی ہے۔

بھارتی دفاعی ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک نے باہمی اتفاق رائے سے وادی گلوان کے ایک بڑے حصے کو ‘بفر زون’ یا ‘نو مینز لینڈ’ قرار دیا تھا لیکن چینی فوج نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے گلوان کے جنوبی کنارے پر اپنی ایک نئی چوکی پر کام شروع کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پیر کی شام کو 16 بہار رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر کرنل بی سنتوش بابو اور رجمنٹ سے وابستہ دیگر درجنوں اہلکار چینی فوجیوں سے بات کرنے کے لیےچوکی کے نزدیک پہنچے،چوکی کو منہدم کرنے اور پیچھے ہٹنے کے لیے کہا تو دونوں افواج کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی اور کچھ ہی منٹوں بعد شدید جھڑپ شروع ہوگئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ اور چینی فوجیوں نے بھارتیوں کی بھرپور عزت افزائی کی۔

کرنل سنتوش بابو اور ان کے ساتھیوں کو لوہے کی سلاخوں اور خاردار تار سے لپٹی لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کر شدید زخمی کردیا۔ وہ فوجی، جن کے ساتھ کوئی دفاعی سامان نہیں تھا۔ بعض فوجیوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے دریائے گلوان میں چھلانگ لگا دی لیکن اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں چینی فوجیوں نے دریا میں پھینک دیا۔

جھڑپ میں بھارت کو ایک کرنل سمیت بیس اہلکاروں کی جان کا نقصان ہوا۔ وادی گلوان میں یہ ہلاکتیں 1999 کی کارگل جنگ کے بعد بھارتی فوج کو لداخ میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔جبکہ 1967 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے جب بھارت اور چین کی افواج کے درمیان جھڑپ میں کسی ایک ملک کو اتنا بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہو۔

بھارت اور چین کے درمیان معاہدے کے تحت کتنی ہی کشیدگی کیوں نہ ہو، دونوں سرحد پر جھڑپوں سے بچیں گے اور سرحد پر تعینات فوجیوں کے پاس ہتھیار نہیں ہوں گے۔

2 COMMENTS

  1. چینی فوجیوں نے بھارتی فوجیوں کو ڈنڈوں پہ لوہے کے کیل لگا کر مارا، -

    […] کے درمیان وادی گلوان میں جھڑپ کے نتیجے میں کم سے کم 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکتوں […]

  2. چین کی مدد کیلئے پاکستان نے آئی ایس آئی کے تین ایجنٹ اتار دیے ہیں، بھارتی میڈیا پہ رونا شروع - Urdu News

    […] ناکامی کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پہ ڈال دے۔ ابھی چائنہ سے مار کھاتے بھارت نے آئی ایس آئی کے تین ایجنٹ کا رونا ڈالا ہوا […]

Leave a Reply