لاڑکانہ: سندھ کے شہر لاڑکانہ میں سندھ حکومت کی ادویات قبرستان سے بھی برآمد کرلی گئیں۔

نجی نیوز چینل اے آر وائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے سرکاری ادویات پرائیویٹ گوداموں سے برآمدگی کے بعد قبرستان سے بھی ادویات برآمد کر لیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درگاہ قائم شاہ کے قریب قبرستان میں ادویات کے 26 کارٹن برآمد کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پولیس نے 2 پرائیویٹ گوداموں سے 2 کروڑ کی سرکاری ادویات برآمد کی تھی، گرفتار تین ملزمان کی نشاندہی پر آج قبرستان سے ادویات برآمد کی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار 3 ملزمان کی نشاندہی پر آج چانڈکا اسپتال عملے کو بھی بیانات کے لیے بلایا گیا تھا۔

لاڑکانہ پولیس کے مطابق ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے ادویات قبرستان میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ لاڑکانہ سے برآمد کی جانے والی ادویات پر سندھ حکومت کی ’ناٹ فار سیل‘ کی مہر لگی ہوئی تھی، وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے خبر پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہی چوری شدہ دواؤں کے زور پہ بھٹو کو زندہ رکھا جا رہا ہے۔ ورنہ سندھ حکومت دواؤں کے بغیر مرنے والی عوام کو یہ دوائیں مہیا کرتی۔

آپ کی اس خبر پہ کیا رائے ہے؟

Leave a Reply