سندھ سے تعلق رکھنے والے 102 ہندوؤں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا۔اپنی جیب سے 32 ہزار روپے خرچ کرکے اس تقریب کا اہتمام کیا تاکہ سب مسلمان ہوسکیں۔

102 Hindus from Sindh have converted to Islam en masse.
image via social media

تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر بدین کی تحصیل گولاڑچی کے گاؤں حبیب الرحمان کے 12 خاندانوں کے102 افراد نے اسلام قبول کرنے کیلئے اپنی جیب کے خرچے سے تقریب کا اہتمام کیا اور حیدرآباد سے عالم دین کو بلا کلمہ توحید پڑھ کر اسلام قبول کیا۔

ان افراد میں نوجوان ، بڑے بوڑھے، خواتین ، لڑکے، لڑکیاں اور کمسن بچے شامل تھے۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ساون بھیل جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام محمد اسلم شیخ رکھ لیا ہے۔ ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مذہب کی تبدیلی کسی کے دباؤ میں آکر نہیں کی۔ اس تقریب کے اہتمام کیلئے میں نے او رمیرے بھائی نے32 ہزار روپے خرچ کیے تاکہ ہم سب مسلمان ہوسکیں۔ ہم نے اس تقریب میں اپنے خاندان کے علاوہ آس پاس کے علاقوں کے ان افراد کو بھی دعوت دی جو مسلمان ہونا چاہتے تھے۔

102 Hindus from Sindh have converted to Islam en masse.
Image via social media

ان کا مزید کہنا تھا کہ میری بیوی، چار بیٹیوں، بھائی اور ان کے خاندان، دو چچا، چچا زاد بھائیوں اور دیگر خاندان کے 5 افراد نے اسلام قبول کیا۔ جبکہ دیگر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سات افراد بھی شامل تھے۔

محمد اسلم نے مزید کہا گزشتہ دو دہائیوں میں ہماری برادری کے ایک ہزار سے زائد افراد مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہاں گاؤں کے گاؤں مسلمان ہورہے ہیں، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، یہاں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے۔ یہاں لوگ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں، پانچ سال پہلے میری شادی شدہ بہن کا پورا خاندان بھی مسلمان ہوئے۔ میری بہن کی کوئی بیٹی نہیں تھی میں نے اپنی ایک بیٹی انہیں دی وہ بھی مسلمان ہوگئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے سابق مذہب میں خون کے رشتوں میں شادیاں نہیں کرسکتے، بیٹیوں کے رشتوں سے متعلق بہت مسائل ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمان ہورہے ہیں،اب میں بھی باآسانی اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرسکوں گا، میرے کچھ مزید رشتہ دار بھی اگلے ماہ مسلمان ہوجائیں گے۔ حکومت پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہندوؤں کی آبادی 55 لاکھ ہے، تاہم ہندوؤں کی ایک تنظیم کے مطابق پاکستان میں 80 لاکھ ہندو بستے ہیں۔

ہندوؤں کے مسلمان ہونے کی خبر بھارت سے برداشت نہیں ہوئی اس پر بھارتی میڈیا نے پراپیگنڈہ شروع کردیا کہ پاکستان میں ہندوؤں ڈے زبردستی مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے محمد اسلم کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ میڈیا والے آ کر مختلف سوالات کرتے ہیں میں ان سے بات نہیں کرتا کیونکہ یہ سب جھوٹی خبریں دیتے ہیں۔ ہماری ہندو ذات بھیل تھی یہ ایک نچلے درجے کی ذات ہے مسلمان اس ذات کے ساتھ کھانا پینا اورملنا ملانا پسند نہیں کرتے، تاہم اب مسلمان ہونے کے بعد اب ہم سب بھائیوں کی طرح مل جل کر رہتے ہیں اور ساتھ کھاتے پیتے بھی ہیں۔

Leave a Reply