پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک شہری پر تشدد اور اسے نیم برہنہ کر کے ویڈیو بنانے کے معاملے میں تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انتہائی افسوس ناک واقعہعامر تہکال کی ویڈیو ایک غیرذمدارانہ اور اور غیر اخلاقی فعل ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔انشااللہ ہم امید کرتے ہیں کہ افسران بالا اسطرح غیرذمدار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے دوسروں کے لیے نمونہ بنائینگے۔ ۔کیونکہ اسطرح فعل سے ہمارا وقار مجروح ہواہے۔ان جیسے درندوں کیوجہ سے سارا پولیس بدنام ہوگئے۔۔۔۔۔۔

Posted by Sherullah khan official on Wednesday, June 24, 2020
Video: Amir Tehkal viral video

 یہ معاملہ چند روز قبل ایک شخص کی ویڈیو سے شروع ہوا تھا جس میں اس نے پولیس اہلکاروں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی تھی۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تھانہ تہکال کی پولیس نے اسے حراست میں لے لیا تھا اور پھر اس کی نیم برہنہ ویڈیو سامنے آئی۔

 ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پشاور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اور بدھ کو پولیس حکام نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر اور اہلکاروں کو معطل کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور ظہور بابر آفریدی نے تھانہ تہکال کے ایس ایچ او کے علاوہ مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبلوں کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی اور دونوں کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

تاہم اس شخص کے خاندان کے افراد نے رابطہ کرنے پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا اصل نام ردیع اللہ ہے اور یہ افغان پناہ گزین ہے۔

ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ یہ عامر کے نام سے مشہور ہے۔ ان کا کہنا تھا کے پشاور میں افغان قونصل خانہ بند ہے اس لیے ان حکام سے کا رابطہ نہیں ہو سکا تاہم افغان سفارتخانے نے ان کی اس حوالے سے کوئی مدد نہیں کی۔

وائرل ویڈیو کا معاملہ کیا ہے؟

چند روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چند لڑکے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور ان میں ایک اپنا تعارف پشتو زبان میں یہ کہہ کر کرواتا ہے کہ ’میں تہکال کا عامر ہوں‘۔

Video: Amir Tehkal speaks about police

تہکال پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر ایک علاقہ ہے جہاں بیشتر آبادی ارباب خاندان کی ہے ۔

اس ویڈیو میں مذکورہ لڑکا پولیس افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پولیس اس کا کیا کر سکتی ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے ایس ایچ او کی زیر نگرانی کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد ان کی ایک تصویر اور مختصر ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کے چہرے پر تشدد کے نشان دیکھے جا سکتے تھے اور ویڈیو میں وہ معافی مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔

یہ ویڈیو اور تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوئی جس میں کچھ لوگ عامر کے رویے پر سخت تنقید کرتے رہے لیکن بیشتر لوگوں کا موقف تھا کہ عامر نے جو حرکت کی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی اور پولیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو تھانے لے جا کر اس پر تشدد کرے اور خود ہی اسے سزا دے۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید اور کچھ بحث کے بعد ٹھنڈا پڑا ہی تھا کہ ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کو نیم برہنہ دیکھا جا سکتا ہے اور اہلکار اس پر آوازیں کستے سنے جا سکتے ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام متحرک ہوئے اور اس بارے میں پہلے انسپکٹر جنرل پولیس اور اس کے بعد ایس ایس پی کی جانب سے کارروائی کرنے کے بیانات سامنے آئے اور پھر ان متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

اس کے بعد ان کی ایک تصویر اور مختصر ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کے چہرے پر تشدد کے نشان دیکھے جا سکتے تھے اور ویڈیو میں وہ معافی مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔

یہ ویڈیو اور تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوئی جس میں کچھ لوگ عامر کے رویے پر سخت تنقید کرتے رہے لیکن بیشتر لوگوں کا موقف تھا کہ عامر نے جو حرکت کی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی اور پولیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو تھانے لے جا کر اس پر تشدد کرے اور خود ہی اسے سزا دے۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید اور کچھ بحث کے بعد ٹھنڈا پڑا ہی تھا کہ ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کو نیم برہنہ دیکھا جا سکتا ہے اور اہلکار اس پر آوازیں کستے سنے جا سکتے ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام متحرک ہوئے اور اس بارے میں پہلے انسپکٹر جنرل پولیس اور اس کے بعد ایس ایس پی کی جانب سے کارروائی کرنے کے بیانات سامنے آئے اور پھر ان متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

عامر کے بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ پشاور میں ایک شادی ہال میں ویٹر کے طور پر کام کرتا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے شادی ہالوں کی بندش کے بعد وہ تین ماہ سے بےروزگار تھا۔

اس بارے میں تصدیق کے لیے عامر یا اس کے خاندان کے افراد سے رابطے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

5 COMMENTS

Leave a Reply