A 14-year-old girl was raped at gunpoint for two and a half years in Gujranwala
image via social media

چودہ سالہ بچی کے ساتھ گن پوائنٹ پہ ڈھائی سال تک زیادتی ہوتی رہی۔ بچی کا غریب باپ انصاف کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے پہ مجبور۔

Video: A 14-year-old girl was raped at gunpoint for two and a half years. The poor father of the girl is forced to stumble for justice.

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ گوجرانولہ میں ایک معصوم چودہ سال کی بچی کے ساتھ پیش آیا۔متاثرہ لڑکی کے والد کا نام مشتاق ہے جنکی کشمیر میں چھوٹی سی ہجام کی دوکان ہے۔ محمد مشتاق صاحب گوجرانولہ میں ایک کراۓ کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر کے بالکل سامنے والا گھر ایک خاتون کا تھا، جس کا نام سیما ہے۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس سیما نامی خاتون کے گھر جایا کرتی تھی۔مزید تفصیلات متاثرہ لڑکی نے بتاتے ہوئے کہا کہ ایک دن اس خاتون سیما نے مجھے اپنی چچی کے گھر بھیج دیا کہ وہاں انکے گھر جا کر صفائیاں کرو۔

جب میں وہاں پہنچی تو عثمان نامی شخص نے کمرے میں اکیلا دیکھ کر کمرے کا دروازہ بند کر دیا، اور میرے اوپر گن رکھ لی اور کہا کہ اپنے کپڑے اتارو ورنہ میں تمھارے ماں باپ کی جان لے لوں گا۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس شخص نے گن پوائنٹ پر میرے ساتھ زیادتی کی، ڈھائی سال تک اسی طرح یہ شخص گن پوائنٹ پر مجھے ڈرا کر میرے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ایک دن فجر کے وقت جب میں کشمیر سے واپس آیا تو یہ درندہ نما شخص زبردستی گھر میں گھس کر میری معصوم چودہ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔ تب ہی یہ شخص فوراً فرار ہو گیا اور کچھ دیر بعد ہی اپنی چچی لبنیٰ اپنے چچا اشفاق اور کزن ابوبکر کے ساتھ ہمارے گھر آیا اور وہ لوگ ہم سے معافی مانگنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ آپکی بھی عزت ہے اور ہماری بھی عزت ہے اس لیے اس بات کو یہاں ہی رفع دفع کرتے ہیں اس بچی کو ہم اپنی عزت بنائیں گے ہم اسکا اور عثمان کا نکاح کر دیتے ہیں۔

مزید تفصیلات کے مطابق اس بچی کی عمر نکاح نامے پر اٹھارہ سال لکھوائی گئی کیونکہ چودہ سال کی نابالغ بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ ہزار روپے حق مہر کے ساتھ یہ لالچی لوگ اس بچی کا نکاح کر کے لے گئے۔

متاثرہ بچی نے بتایا کہ عثمان اسکی چچی لبنیٰ، چچا اشفاق اور کزن ابوبکر جس گھر میں مجھے نکاح کے بعد لے کر گئے وہ ان کا ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ ان کی گلی سے دور کسی اور محلے میں ایک کھنڈر نما مکان تھا۔ اس مکان میں پہلے سے دو آدمی موجود تھے۔

عثمان نے ادھر پہنچ کر مجھے طلاق دے دی اور کہا کہ یہ نکاح تو میں نے بچنے کے لیے کیا ہے۔طلاق دینے کے بعد عثمان وہاں سے چلا گیا اسکی چچی لبنیٰ نے مجھے کہا تم پریشان نہ ہو میں ابھی عثمان کو لے کر آؤں گی اسکے بعد وہ خاتون بھی وہاں سے چلی گئی۔

متاثرہ بچی نے بتایا کہ لبنیٰ کے جانے کے بعد عثمان کے چچا اشفاق، کزن ابوبکر اور وہاں بیٹھے دونوں مردوں نے بھی میرے ساتھ زبردستی زیادتی کی۔ پھر عثمان اور اسکی چچی لبنیٰ اپنے ساتھ تین بندے کے کر آئے۔

ان لوگوں نے میرا تین لاکھ کا سودا کر دیا ان لوگوں کے ساتھ اسکے بعد آنٹی لبنیٰ نے مجھے پانی پلایا اور میں بیہوش ہو گئی اسکے بعد مجھے نئی پتا کیونکہ مجھے جب بھی ہوش آتا یہ لوگ مجھے ادویات دے کر سلا دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجھے پانچ، چھ دن یہاں ہی رکھا۔

متاثرہ بچی نے مزید بتایا کہ پانچ چھ دن بعد یہ لوگ مجھے کہیں اور لے کر گئے وہاں چار بندے پہلے سے موجود تھے وہاں پہ بھی ایک بندے نے میرے ساتھ زیادتی کی۔

پھر ایک دن ان میں سے ہی ایک شخص کو میرے اوپر ترس آیا اس نے کہا کہ اپنے کسی رشتے دار کا نمبر بتاؤ تب میں نے اپنے ابو کا نمبر بتایا۔ اس شخص نے ابو کو کال کر کے کہا داتا دربار سے اپنی بچی کو اس وقت پر لے جانا۔ جیسے ہی وہ مجھے کہیں اور لے کر جانے کے لیے نکلے تو آگے میرے امی اور ابو کھڑے تھے تو وہ لوگ فوراً وہاں سے فرار ہو گئے۔

متاثرہ بچی کے والد نے بتایا کہ ہم پولیس اسٹیشن ان لوگوں کے خلاف رپورٹ لکھوانے گئے تو دو دن بعد ذلیل کرنے کے بعد ہماری رپورٹ درج کی گئی۔ بعد میں تھانے والے مجھے بہت تنگ کرتے تھوڑی دیر بعد کہتے بیٹی کو تفتیش کے لیے تھانے لے کر آؤ۔

متاثرہ بچی نے بتایا کہ مجھے تھانے بلایا گیا اور جس کمرے میں تفتیش ہونی تھی اس کمرے میں سے ایس ایچ او صاحبہ نے میرے والد اور والدہ کو باہر نکال دیا اور ملزموں کو میرے سامنے کرسی پر بیٹھا دیا۔ ایس ایچ او طیبہ کا رویہ بھی میرے ساتھ بہت سخت تھا۔

ان سب نے مل کر مجھے ڈرایا دھمکایا بھی اسکے بعد میں نے ایس ایچ او صاحبہ کو سب بتایا۔ انہوں نے کچھ ملزم پکڑے ہیں اور کچھ ابھی تک باہر ہی ہیں۔ جو ملزم پکڑے گئے ان کو گھر جیسا ماحول دیا گیا ہے۔

متاثرہ بچی کے والد نے کہا کہ پولیس والے بھی ان لوگوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔متاثرہ بچی کے والد نے کہا کہ کیا غریب آدمی کی کوئی عزت نہیں ہے۔ مشتاق صاحب نے روتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے انصاف کی التجا کی ہے، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر انکو انصاف نہ ملا تو وہ وزیراعظم ہاؤس کے باہر اپنے اوپر اور اپنی فیملی پر پیٹرول چھڑک کر سب کو آگ لگا دے گا۔

Leave a Reply